ہفتہ 7 فروری 2026 - 21:01
امام زمانہ اور غیبت کے دور میں مثبت و منفی تحریکیں اور ان کا قرآنی بصیرت کے تحت  تنقیدی جائزہ

حوزہ/ اسلامی فکر میں ظہورِ امام زمانہ (عج) کا تصور ایک عقیدہ نہیں بلکہ عدلِ الہیٰ کے غلبے کی ایک عالمی تحریک ہے۔ اس عظیم مشن کے نام پر اٹھنے والی کسی بھی سماجی یا فکری تحریک کو دو بڑے پیمانوں پر پرکھنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ ایک وہ تحریک جو ظہور کی راہ ہموار کرتی ہے، اور دوسری وہ جو شعوری یا لاشعوری طور پر اس کیلئے رکاوٹ بنتی ہے۔

تحریر: مولانا سید صفدر حسین زیدی، مدیر جامعہ امام جعفر صادق علیہ السلام جونپور

حوزہ نیوز ایجنسی| اسلامی فکر میں ظہورِ امام زمانہ (عج) کا تصور ایک عقیدہ نہیں، بلکہ عدلِ الہیٰ کے غلبے کی ایک عالمی تحریک ہے۔ اس عظیم مشن کے نام پر اٹھنے والی کسی بھی سماجی یا فکری تحریک کو دو بڑے پیمانوں پر پرکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔

ایک وہ تحریک جو ظہور کی راہ ہموار کرتی ہے، اور دوسری وہ جو شعوری یا لاشعوری طور پر اس کیلئے رکاوٹ بنتی ہے۔

پہلی تحریک، الہیٰ مشن کی زمین ہموار کرنے کیلئے مثبت رخ

قرآنِ کریم کے مطابق ایسے لوگ تعریف کے قابل ہیں اور یہی لوگ گروہ کی صورت میں دین الٰہی کی نصرت کرتے ہیں ۔ اگر کوئی تحریک مسلمانوں کی اخلاقی، علمی اور سماجی تربیت اس نہج پر کرے کہ وہ ایک عالمی عادلانہ نظام کوقائم کرنے اور اسے سنبھالنےکی جد وجہد کر تے ہیں، تو وہ یقینی طور پر اس آیت کا مصداق ہے "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا أَنصَارَ اللَّهِ" ترجمہاے ایمان والو! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ۔ — سورہ الصف14

ایسی تحریکوں کا اصل مقصد بندوں کو "انجمن گروہ ایسوسی ایشن وغیرہ سوسائٹی آرگنائیزیشن" کا نہیں بلکہ "اللہ اور اس کے ولی" کا وفادار بنانا ہوتا ہے۔ وہ معاشرے میں پھیلے ہوئے ظلم کے خلاف شعور بیدارکرتی ہیں اور مسلمانوں کو اس قابل بناتی ہیں کہ وہ زمین کے وارث بن سکیں، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے، "وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِن بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ" اور یقیناً ہم نے ذکر (نصیحت) کے بعد زبور میں بھی لکھ دیا تھا کہ زمین کے وارث میرے نیک بندے ہی ہوں گے۔) سورہ الانبیاء105

دوسری تحریک، فکری انحراف اور مخالفتِ اسلام کا آلہ کار بننا منفی رخ

دوسری طرف، بہت سے دانشور اور علماء ان تحریکوں سے متعلق سخت تحفظات رکھتے ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ جب ,غیبت، جیسے مقدس نظریے کو محدود گروہی مفادات یا سطحی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، تو یہ اسلام مخالف قوتوں کے ایجنڈے کو تقویت دیتا ہے۔ اس کے نقصانات درج ذیل ہیں۔

جمود اور باطل و غلط مقصد انتظار

بعض گروہ مسلمانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ عملی جدوجہد بے سود ہے اور سب کچھ صرف معجزانہ طور پر ہوگا۔ یہ سوچ قرآن کے اس آفاقی اصول کے خلاف ہے۔
وَأَن لَّيْسَ لِلْإِنسَانِ إِلَّا مَا سَعَىٰ. اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اس نے کوشش کی۔ سورہ نجم39

فکری انتشار اور گروہ بندی ایسی تحریکیں اکثر امت کے وسیع تر مفاد کے بجائے اپنی "ٹولی" یا "گروہ" کو ہی نجات دہندہ سمجھنے لگتی ہیں، جس سے مسلمانوں کی مجموعی طاقت تقسیم ہو جاتی ہے۔ قرآن اس تقسیم سے روکتا ہے۔

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَات". اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا جو تفرقے میں پڑ گئے اور آپس میں اختلاف کرنے لگے، باوجود اس کے کہ ان کے پاس روشن نشانیاں آ چکی تھیں۔ سورہ آل عمران105

استعماری آلہ کاری تاریخ گواہ ہے کہ اسلام دشمن قوتوں نے ہمیشہ ایسی تحریکوں کی پشت پناہی کی ہے جو مسلمانوں کی انقلابی فکر کو صرف رسومات، جذباتی نعروں اور بے مقصد سرگرمیوں میں الجھا کر انہیں عالمی علمی و سیاسی میدان سے دور کر دیں۔

خلاصہِ کلام

کسی بھی تحریک کی معتبریت کا راز اس بات میں ہے کہ وہ فرد کو کتنا "باصلاحیت" اور "باصیرت" بنا رہی ہے۔ اگر کوئی اجتماعیت مسلمانوں کو جدید علوم، بلند اخلاق اور اتحادِ امت کی طرف لے جا رہی ہے، تو وہ ظہور کی راہ میں آسانی ہے۔ لیکن اگر وہ صرف نعروں، چندہ سازی اور شخصیت پرستی تک محدود ہے، تو وہ مسلمانوں کو اس وسیع مقصد سے روکنے کا سبب ہے جس کا تقاضا قرآن کرتا ہے۔

حقیقی منتظر وہ ہے جو اپنے عمل سے ثابت کرے کہ وہ عدلِ الہیٰ کا سپاہی بننے کے قابل ہے، نہ کہ وہ جو محض تنظیموں کے سہارے اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha